بھٹکل 19/دسمبر (ایس او نیوز).حیدرآباد کے دلسکھ نگر میں ہوئے بم ھماکہ کیس میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے احمد سدی باپا عرف یاسین بھٹکل سمیت 5 نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ فیصلہ آنے کے فوری بعد گھروالوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این آئی اے عدالت کے اس فیصلہ پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں پہلے سےاسی طرح کے فیصلے کا خدشہ تھا۔
حیدرآباد کا دلسکھ نگر علاقہ 21 فروری، 2013 کی شام کو دو سلسلہ وار دھماکوں سے دہل گیا تھا. پہلا دھماکہ شام 7 بجے کونارک سنیما کے پاس ہوا تھا. اس کے ٹھیک 4 منٹ بعد وینکٹتدری تھیٹر کے پاس دوسرا دھماکہ ہوا تھا. ان دھماکوں میں 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 131 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے. 24 اگست، 2015 کو اس معاملے میں ٹرائل شروع کیا گیا تھا.
عدالت میں دائر کی گئی چارج شیٹ میں کل 6 دہشت گردوں کے نام تھے، جن میں ایک پاکستانی شہری تھا. تمام مجرم حیدرآباد کی چیرلا پلٰی جیل میں بند ہیں.
5 قصورواروں کے نام اسد اللہ اختر (یوپی)، ضیائ الرحمن (پاکستان)، تحسین اختر (بہار)، یاسین بھٹکل (کرناٹک) اور اعجاز شیخ (مہاراشٹر) ہیں.
تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق انڈین مجاہدین (آئی ایم) کا شریک بانی احمد عرف یاسین بھٹکل دھماکے کے بہت سے معاملات میں مطلوب تھا اس کا نام دہلی ہائی کورٹ کے باہر 7ستمبر 2011 کو ہوئے دھماکے میں بھی آیا جس میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے .30 سالہ یاسین 2010 کے پونے کی جرمن بیکری دھماکے کیس میں بھی مطلوب تھا۔ جس میں پانچ غیر ملکیوں سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 56 دیگر زخمی ہوئے تھے.
تحقیقاتی ایجنسیوں نے یاسین کو دہلی سیریل دھماکے (2008)، احمد آباد دھماکے (2008) اور سورت دھماکے (2008) میں بھی شامل بتایا ہے۔ اسی طرح یاسین کو جے پور دھماکے (2008)، وارانسی دھماکے (2010) اور ممبئی میں ہوئے دھماکے (2011) میں بھی شامل ہونے کی بات کہی ہے۔
اُدھر یاسین کے گھروالوں نے فیصلہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں این آئی اے عدالت پر پہلے سے بھروسہ نہیں تھا، ہمیں اس بات کا پہلے سے خدشتہ تھا کہ یہ جج صحیح فیصلہ نہیں سنائے گا، اسی بنا پر احمد نے پہلے ہی متعلقہ جج کے خلاف ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی تھی کہ اس جج کا تبادلہ کیا جائے ۔ عبدالصمد نے بتایا کہ اس سے پہلے جتنے بھی نوجوان جیلوں سے بے قصور ثابت ہوکر باہر آئیے ہیں، اُنہیں بھی نچلی عدالتوں نے دہشت گرد قرار دے کر سزا سنائی تھی، مگر اعلیٰ عدالتوں بالخصوص ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وہی تمام لوگ بے قصور ثابت ہوکر تیس تیس اور چالیس چالیس سال بعد باہر آئے ہیں۔ اس بنا پر انہیں پورا یقین ہے کہ احمد کو بھی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سےانصاف ضرور ملے گا۔